Hangame asr hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Sajid Jafri
ہنگام عصر ہے یہ شہ خوں اگل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
کل انبیاء سرہانے ہاتھوں کو مل رہے ہیں
ایسا کوئی ستارہ سر قاسمہ ہے سارا
وہ آندھیاں ہیں سینوں میں دل بہل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
یعنی نہ ہے وہ زین پر یعنی نہ ہے زمین پر
تیروں پہ شاہ والا کروٹ بدل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
خون تو رگوں میں کیا ہے خشک اس قدر گلا ہے
قاتل بھی تھک کے اپنے خنجر بدل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
قد گردنیں کٹانے شبیر کو بچانے
جانے کو رن میں ہاے کم سن مچل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
زخموں سے جو رواں ہے ہاے لہو کہاں ہے
یہ نور کبریا کے چشم ابل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
ہر شام روز جسکو روے گی یاد کرکے
وہ شام ڈھل رہی ہے قیام جل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
وہ ہو گیا زمانہ شانے سے تابہ شانا
تابوت چل رہا ہے کاندھے بدل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
اک اے نوید ہے یہ کل کربلا کا حاصل
ھل من کے لفظ شہ کے منہ سے نکل رہے ہیں
اور تیر چل رہے ہیں
ہنگام عصر ہے یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.