Qaid mein mar gayi hai Sakina meri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Hasan Abbas Baqari
قید میں مر گئی ہے سکینہ میری
بولے سجاد یہ، قید تنہائی میں، ہائے اب چل بسی ہے سکینہ میری
پانی لینے تھا بھیجا چچا جان کو
مشک میں لگ گیا تیر آئے نہ وہ
اس کو قاتل چچا کا ستاتا رہا
شمر رخ پر طمانچے لگاتا رہا
نام پانی کا اب، لب پہ لاتی نہیں،
اتنی سہمی ہوئی ہے سکینہ میری
ہاتھ پہلو پہ دادی کی طرح رکھے
یوں مصائب سفر میں ہیں اس کو ملے
تھوڑی تھوڑی سفیدی بھی بالوں میں ہے
اتنے غم شام والوں نے اس کو دیئے
چار برسوں میں ہی، بوڑھی زندان تک،
ہائے اب ہو چکی ہے سکینہ میری
جب بھی اڑتے پرندے نظر آتے ہیں
پوچھتی ہے یہ بھیا کہاں جاتے ہیں
کب وطن جا کے صغری سے مل پائیں گے
قید سے چھٹ کے کب اپنے گھر جائیں گے
قید خانے میں میں، روتا ہوں دیر تک،
مجھ سے جب پوچھتی ہے سکینہ میری
طوق و زنجیر سے بڑھ کے اک دکھ ہے یہ
ہر گھڑی اس لیے خون روتا ہوں کہ
شام و کوفہ کے درباروں بازاروں میں
بھیڑ میں بے حیاؤں میں میخواروں میں
دربدر اس قدر، قیدی و بے ردا،
کیوں پھرائی گئی ہے سکینہ میری
ماں سے بچی کو یوں دور رکھا گیا
کہ اسے اک الگ قید خانہ ملا
سسکیاں لے کے وہ آہیں بھرتی رہی
یاد بابا کو رو رو کے کرتی رہی
دیر سے قید میں، کتنی خاموشی ہے،
لگتا ہے سو رہی ہے سکینہ میری
آکے واپس وطن میں بتانے لگے
زخم سینے میں تھے جو دکھانے لگے
پوچھا صغری نے جونہی سکینہ کا تو
رو کے صغری کو سینے لگانے لگے
بولے سجاد پھر، قبر میں جا کے بھی،
رسیوں سے بندھی ہے سکینہ میری
سر جب احسن ملا قید میں باپ کا
بات اسد رو کے بی بی یہ کہنے لگی
بابا تم سے بچھڑ کر گزر جاؤں گی
بابا تیری جدائی میں مر جاؤں گی
قید خانے میں پھر، تنہا سجاد کو،
چھوڑ کر مر گئی ہے سکینہ میری
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.