Shiddat e Sabr Se Mar Jaye Na Maa Akbar Ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
شدت صبر سے مر جائے نہ ماں اکبر کی
دن مدینے میں وہ تقدیر نے دکھلایا ہے
جس نے ماری تھی کلیجے میں سناں اکبر کے
بن کے مہمان وہ سجاد کے گھر آیا ہے
پھر وہی کیفیت ہے لیلی کی حال تھا جو جواں کے لاشے پر
اس کے قدموں کی آہٹیں سن کر
ماں نے تھاما ہوا ہے اپنا جگر
گھر میں آیا ہے قاتل اکبر
ام لیلی کو ہو گئی ہے خبر
شہ تڑپتے ہیں قبر کے اندر
ماں تڑپتی ہے قبر سے باہر
ام لیلی سنبھال زینب کو
کل یہ شبیر دے رہے تھے صدا
آج عابد پھپھی سے کہتے ہیں ماں کو میری سنبھالئے جا کر
چہرہ کرب و بلا کی جانب ہے پانی ہاتھوں میں لے کے روتی ہے
پھر رہا ہے نگاہ میں ماں کی علی اکبر کی موت کا منظر
علی اکبر لپٹ کے قدموں سے کہہ رہے ہوں گے اپنے بابا سے
ٹوٹ جائے نہ ضبط کا بندھن حوصلہ ماں کو دیجیئے جا کر
قبر زہرا سے آ رہی ہے صدا
اس نے مارا ہے میرے بابا کو
پھر مدینے میں اک قیامت ہے ہل رہا ہے مزار پیغمبر
یہ کریمی سے رک نہیں سکتے قاتلوں کو دعائیں دیتے ہیں
اس سے پہلے کے بخش دیں عابد
کوئی مختار سے کہے جا کر
سر اکبر اٹھا کے نیزے پر
ام لیلی کو یہ دکھاتا تھا
اس کو کیسے وہ بھول سکتی ہے جس سے کھائے تھے شام میں پتھر
کل تھے مہمان ہم تیرے ظالم آج مہمان تو ہمارا ہے
اور کچھ چاہیے بتا تجھ کو ابھی کہہ دوں پھپھی سے میں جا کر
تم نے سجاد مجھ کو پہچانا سن کے قاتل سے بولے یہ مولا
تو وہ ابن نمیر ہی ہے نا
جس نے ٹکڑے کیا ہمارا جگر
دل نہیں لگتا آج گھر میں میرا اے تکلم یہ ماں کا نوحہ تھا
تھام کر کوئی میرے بازو کو
لے چلے فاطمہ کی تربت پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.