Kis ne mara hai Sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Waheed Rizvi
سر یہ شبیر کا کہتا تھا حزینہ کس نے مارا ہے سکینہ
خوں میں تر گرتا ہے کیوں تیرا سکینہ کس نے مارا ہے سکینہ
اپنے بابا کو بتاؤ زرا روداد سفر
نیل دروں کے ہیں کیوں بیٹی ترے شانوں پر
کس نے مارے ہیں طمانچے تیرے بیٹی منہ پر
اتنی بے رحمی سے چھینے ہیں ترے کس نے گوہر
لاج کس نے ترے بچپن کی رکھی نہ
چھن گئی کیسے میرے بعد تمہاری چادر
سر میری راحت دل کا ہے یہ کیوں خون میں تر
ظالموں نے کہاں شہزادی کو مارے پتھر
دل میں جو غم ہیں بتاؤ تو مجھے جان پدر
ہائے کب سے میری بچی تو ہنسی نہ
کیوں ہے بدلی ہوئی چہرے کی تمہارے رنگت
کیسے پوشاک جلی کیسے ہوئی یہ حالت
ہائے لبوں پر تیرے ہے پیاس کی کتنی شدت
پاؤں میں چھالے ہیں کیوں کیسی اٹھائی زحمت
اپنے گھر میں کبھی تم اتنا چلی نہ
بابا لوگوں نے ترے بعد ہے مجھ کو مارا
شاہ زادی کو کنیزی کے لیے بھی مانگا
ایسے سادات کی حرمت کو بھی پامال کیا
دینا چاہا تھا مجھے لوگوں نے آ کر صدقہ
مجھ سے پوچھا یہ کسی نے بھی کبھی نہ
چلتے ناقے سے گراتے تھے کبھی مجھ کو لعیں
زخمی ہوتی رہی بابا میری گر گر کے جبیں
آپ کی یاد میں جب جب بھی میں روتی تھی کہیں
تازیانہ لیے آ جاتا تھا پھر شمر وہیں
پھر نظر میری تیرے سر سے ہٹی نہ
سر ملا بابا کا زنداں میں تو اتنا روئی
رکھ کے سر بابا کے سر پہ نہ اسد پھر بولی
رو کے بس اتنا کہا بابا نہ اب جانا کہیں
روتے روتے ہوئے معصومہ جو خاموش ہوئی
سر سے آتی تھی صدا بولو سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.