Jab ashqiya ne hai zeen se giraya ghazi ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Ansar Jafri
جب اشقیا نے ہے زیں سے گرایا غازی کو
خیال چادر زینب کا آیا غازی کو
پکارا گھوڑا یہ شہ کو جسے سنبھالا ہے
گھرا ہے تیغوں میں آؤ وہ گرنے والا ہے
لرزتا پشت پہ اس نے جو پایا غازی کو
ہزاروں تیغوں سے نیزوں سے مارا لوگوں نے
کچھ ایسے کاٹا ہے مقتل میں لاشہ لوگوں نے
جگہ جگہ سے ہے شہ نے اٹھایا غازی کو
گلا کٹے تو کٹے مشک کو بچانا ہے
سکینہ پیاسی ہے پانی اسے پلانا ہے
ہے اذن بابا سے اس نے دلایا غازی کو
علم گرا تو ردائیں بھی گر گئیں سر سے
صدائیں بیبیاں دیتی تھی خیموں کے در سے
کہ راس پانی بھی لانا نہ آیا غازی کو
جب اس کا آخری سانسوں میں پوچھتا تھا جری
تو سر کٹے ہوئے شانوں سے پیٹتا تھا جری
جو شہ نے حال سکینہ سنایا غازی کو
لگا جو تیر سکینہ کی مشک میں آ کر
تڑپ تڑپ کے وہ ٹکرا رہا تھا زین سے سر
ستم کے تیر نے اتنا رلایا غازی کو
اسد یہ شہ کو تھا صدمہ گزر گئے غازی
کہا حسین کو بھائی تو مر گئے غازی
گلے سے شہ نے جو رو کر لگایا غازی کو
گھلا یہ غازی پہ نیزوں کے زخم کھانے سے
لعین ماریں گے زینب کو تازیانے سے
ستم وہ کیسے کریں گے دکھایا غازی کو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.