Ho Alamdar Kahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Shahbaz Haideri
رو کے زینب نے کہا ہو علمدار کہاں
چھن گئی سر سے ردا ہو علمدار کہاں
برچھیاں میرے جگر پر یوں لگاتا ہے لعیں
نیزے پر سر مجھے اکبر کا دکھاتا ہے لعیں
سامنے آ کے میرے قاتل اکبر کا ہنسا
بڑھ گئے شام غریباں کے اندھیرے بھیا
شام تک ہوں گے نہیں اب تو سویرے بھیا
گھر ہے بے چین بہت جلدی آ جاؤ ذرا
تم جو ہوتے تو یوں میں شام نہ جاتی ہائے
بدلے یوں بدر و احد کے نہ چکاتی ہائے
آ کے دیکھو تو مجھے شام تک چلنا پڑا
رسیاں پہنیں گی سب رو کے میں یہ سوچتی ہوں
ہائے ان بیبیوں سے جا کے بھلا کیسے کہوں
مان تھا جس پہ مجھے اب وہ بھائی نہ رہا
کیوں نظر آتا نہیں لاشہ تمہارا بھائی
روؤں کس جا پہ تجھے لوگوں نے مارا بھائی
ایک بازو ہے ادھر اور ادھر ایک پڑا
جب سکینہ کو طمانچوں کی سزا ملتی ہے
دیکھ کر نہر کی جانب وہ تمہیں ڈھونڈتی ہے
رو کے کہتی ہے یہی نہر سے آؤ چچا
ایسے پردیس میں کیا کوئی جدا ہوتا ہے
کہہ کے بازاروں میں عابد یہ لہو روتا ہے
بے ردا اہل حرم اور میں قیدی ہوں کھڑا
شاہ بیکس چلے مقتل کو جونہی خیموں سے
زین پر بھائی کو بہنوں نے بٹھایا رو کے
ہچکیاں لے کے تبھی دی یہ زینب نے صدا
ظلم عباس کی بہنوں پہ یوں شہباز و اسد
یہ علی اور محمد سے تھا سب بغض و حسد
ظلم سب دیکھ کے یہ کہتی تھی ایک ردا
شمر لوگوں سے یہی کہتا ہے مارو آ کر
کوفے میں کوفے کی شہزادیاں کھائیں پتھر
مجمع عام ہے کہ ہر طرف بڑھنے لگا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.