Badan Se Shah Ke Sar Shah Ka Yeh Kehta Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Hasnain Abbas
بدن سے شاہ کے سر شاہ کا یہ کہتا ہے
میں نیزے پر ہوں تجھے شامیوں نے لوٹا ہے
بدن حسین کا بولا تڑپ کے یہ سر سے
نجانے بغض تھا لوگوں کو کیسا سرور سے
جہاں سے کاٹا گیا تجھ کو گند خنجر سے
مجھے بھی مارا گیا ہے وہیں پہ ٹھوکر سے
ستم جو ہم پہ ہوا ہے وہ ایک جیسا ہے
سر حسین بدن سے یہ کہہ کے روتا تھا
جب آ کے شمر نے بالوں سے مجھ کو پکڑا تھا
لعین پہلے تو سینے پہ تیرے بیٹھا تھا
ذرا سا دم تھا جو تجھ میں وہ ایسے رکتا تھا
کہ جیسے کوئی بھی دم گھٹنے سے تڑپتا ہے
کہا بدن نے ہوئی ایسے میری پامالی
ملی ہیں پشت سے یوں ٹوٹی پسلیاں میری
کہ ہائے دیکھ کے زینب نہ مجھ کو پہچانی
گریں گے ٹکڑے میرے گر مجھے اٹھائے کوئی
ہزاروں نیزوں نے مجھ کو کچھ ایسے کاٹا ہے
یہ بولا دیکھ کے مقتل کی سمت شاہ کا سر
جہاں جہاں سے میں گزرا ہوں کھائے ہیں پتھر
پکارے باغی کا سر ہے یہ لوگ ہنس ہنس کر
اور ایک ظلم مسلسل تو ایسا ہے مجھ پر
گڑا ہوا میری گردن میں اب بھی نیزہ ہے
کہا یہ سر نے سکینہ کو یوں ستایا گیا
ہے میرے سامنے بازاروں میں پھرایا گیا
دکھا کے نیزے پہ مجھ کو اسے رلایا گیا
رسن پہنائی گئی پانی نہ پلایا گیا
ستم یہ خوں بھری آنکھوں سے میں نے دیکھا ہے
سکینہ آئی تو اس کو سلا نہ پایا میں
تھے زخم سینے پہ اتنے لٹا نہ پایا میں
ستم سے شمر کے اس کو بچا نہ پایا میں
جب اس کو بالوں سے پکڑا چھڑا نہ پایا میں
طمانچہ اس نے بھی میری طرح سے کھایا ہے
بدن سے کاٹ کے سر جا بجا پھراتے ہیں
جدا بھی کر کے ہمیں اشقیا سے ستاتے ہیں
نہ دفن کرتے ہیں دونوں کو نہ ملاتے ہیں
یوں ایک دوجے سے ہم دور غم اٹھاتے ہیں
اسد بدن سے کوئی سر یوں دور رہتا ہے
لپٹ کے تجھ سے جو جی بھر کے رو نہ پائی ہے
وہ میرے ساتھ بہن لوگوں نے پھرائی ہے
چھری بھی تجھ پہ چلا کر جسے دکھائی ہے
اسی کے سامنے مجھ پر چھڑی چلائی ہے
اب اس سے بڑھ کے ستم کیا بہن پہ ہونا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.