Hussain Dulha Bana Rahay Thay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Waheed Rizvi
یوں سہرا اکبر کو بندھ رہا تھا حرم سبھی روتے جا رہے تھے
جوان بیٹے کو وقت آخر حسین دولہا بنا رہے تھے
چلے جو مقتل کی سمت اکبر تو خیموں میں تھا کچھ ایسا منظر
لپٹ کے روتا ہے کوئی جیسے کسی جنازے کے ساتھ لگ کر
یوں رو کے اکبر کو سارے آکر گلے سے اپنے لگا رہے تھے
نہ واپس آئے گا رن سے اکبر ملے گا زخم ابن فاطمہ کو
حسین کیسے اٹھائیں گے رن سے لاش ہمشکل مصطفی کو
نجانے کیا کیا خیال دل میں حسین مولا کو آ رہے تھے
اے کاش صغری بہن جو ہوتی تو ناز بھائی کے وہ اٹھاتی
سجا کے اکبر کے سر پہ سہرا جو دل میں ارمان تھے بتاتی
سکینہ کی بات سن کے اکبر مدینے کو منہ پھرا رہے تھے
نظر ہے زینب کی تیری راہوں پہ اپنی ماں کو نہ بھول جانا
جبین اکبر پہ دے کے بوسے کہا جو زینب نے جلد آنا
حسین اس وقت اپنے آنسو نجانے کیسے چھپا رہے تھے
صدائیں غازی کو دے رہی تھی یوں پیٹ کر اپنے سر کو زینب
تڑپ گئی دیکھ کر یہ منظر تو روئی تھامے جگر کو زینب
جب انا للہ پڑھ کے اکبر کو شہ عمامہ پہنا رہے تھے
کہاں گرے ہو صدائیں اکبر کو دے کے مقتل میں پوچھتے تھے
نظر نہ آتا تھا کچھ بھی نور نظر کے لاشے پر ایسے پہنچے
سجایا تھا جس کے سر پہ سہرا اب اس کا لاشہ اٹھا رہے تھے
نکالی سینے سے شہ نے برچھی تو یاد صغری بہن کی آئی
مدینے کی سمت کر کے چہرہ تب ہچکی اکبر نے موت کی لی
حسین صغری کا خط جب اکبر کو رو کے پڑھ کے سنا رہے تھے
وہ آیا مقتل میں شاہ زادہ ابھی جو دولہا بنا ہوا تھا
اسد اسے مارا کلمہ گویوں نے کہ جو ہمشکل مصطفی تھا
شبیہ احمد کو قتل کر کے حسین کو سب رلا رہے تھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.