Zahra ka yeh noha tha mera kunba ujjar gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Hasan Mir
واویلا ہائے واویلا
زہرا کا یہ نوحہ تھا میرا کنبہ اجڑ گیا
خود کانپتے ہاتھوں سے شہ نے بیٹے کی لحد کھودی
شبیر کی غربت پر اس دم روتی تھی خدائی بھی
جب خوں بھرے کرتے میں اصغر کو دفن کیا
رخ کر کے مدینے کا بانو صغری کو بلاتی ہے
اکبر کے لہو سے بالوں میں ماں مہندی لگاتی ہے
کہرام تھا خیمے میں لیلی کا یہ نوحہ تھا
بیمار مسافر کے دل پر اک تازہ قیامت تھی
بازار کے رستے میں جس دم ناقے سے سکینہ گری
سیدانیاں روتی تھیں کہرام تھا اک برپا
جو شب کو بنی قاسم کی دلہن وہ صبح کو بیوہ ہوئی
ہاتھوں میں رسن ٹنگنے کی جگہ کبری کے باندھی گئی
فروا نے کہا رو کر پامال ہوا دولہا
اس خوں بھرے منظر کو مادر بھولے گی بھلا کیسے
بیٹے کو جدا ہوتے دیکھا خود اپنی نگاہوں سے
خنجر نہ چلا ظالم کہتی ہی رہیں زہرا
پہرے پہ علی کی بیٹی ہے ہر سمت اندھیرا ہے
اٹھارہ برادر تھے جس کے وہ دشت میں تنہا ہے
اور اس پہ ستم یہ ہے باقی نہ رہا پردہ
اے میر تکلم یثرب میں محشر کا سما ہو گا
جب حال سفر کا زینب نے صغری سے کہا ہو گا
سر پیٹ کے دکھیا نے یہ نوحہ پڑھا ہو گا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.