Garm reti pa mai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Hadi Ali Khan Muslim
گرم ریتی پہ میں گرتا ہوں سنبھالو اماں
عصرِ عاشورتھا شبیر تھے تنہائی تھی
ماہِ زہرا پہ گھٹا ظلم کی جب چھائی تھی
شاہ پہ جب نوکِ سناں سُوئے زمیں لائی تھی
گرتے گرتے لبِ زخمی پہ صدا آئی تھی
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
لاش قاسم کی اُٹھائی ہے نظر زخمی ہے
زخم اکبر کا جو دیکھا ہے جگر زخمی ہے
قلب زخمی ہے بدن زخمی ہے سر زخمی ہے
دے سہارا مجھے بابا کو بُلا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
میں جو گھوڑے سے گروں تم مجھے تسکیں دینا
پیار کرنا میری ہمت کو دُعائیں دینا
ڈال کر باہیں گلے میں مجھے لپٹا لینا
ہا دمِ ذبح مگر ہاتھ ہٹالو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
گر گیا ہوں میں کسی کی بھی مجھے آس نہیں
قتل سب ہو گئے اب کوئی بھی میرے پاس نہیں
میرا قاسم نہیں اکبر نہیں عباس نہیں
تم مجھے آ کے کلیجے سے لگا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
اب کوئی بن میں میرے حلق پہ خنجر ہو گا
اور سینے پہ میرے شمرِ ستمگار ہو گا
خون کا ہوگا کفن خاک کا بستر ہو گا
آخری ناز یہ بیٹے کا اُٹھا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
اپنے وعدے کے لیے میں نے ہر ایذا سہہ لی
ایک ارمان میرا نکلے تو عنایت ہو گی
ذبح کے وقت میری تم سے تمنا ہے یہی
سر میرا خاک سے زانو پہ اُٹھا لو اماں
گرم ریتی پہ میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.