Darya se koi ja kar Ghazi ko bula laye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
دریا سے کوئی جا کر غازی کو بلا لائے
ایسا نہ ہو غربت میں گھر زہرا کا لٹ جائے
رخ کر کے سوئے دریا ہاتھوں سے کمر تھامے
اکبر کے جنازے پر شہ کہتے تھے رو رو کے
کیا بات ہوئی اب تک عباس نہیں آئے
اک باپ ضعیفی کے عالم میں اکیلا ہے
اور شیر سے بیٹے کے لاشے کو اٹھانا ہے
کوئی تو سہارا دے للہ کوئی آئے
زینب کا جری بھائی مارا گیا مقتل میں
گھبرائی ہوئی بہنا انسانوں کے جنگل میں
اک ایک سے رو رو کر یہ کہتی رہی ہائے
ہیں لاکھوں عدو رن میں اور سبط نبی تنہا
زخمی ہے بہت زخمی پیاسا ہے بہت پیاسا
مظلوم کی گردن پر شمشیر نہ چل جائے
سادات کے خیموں کو ہیں گھیرے ہوئے شعلے
کہتی ہے نبی زادی گھبرائی ہوئی رو کے
گھر لٹ گیا اس بن میں چادر بھی نہ چھن جائے
مظلوموں کے خیموں میں اب غم کا بسیرا ہے
کل تک تھی جہاں رونق اب گہرا اندھیرا ہے
شام آگئی غربت کی تاریک ہوئے سائے
حالت ہے عجب گوہر معصوم سکینہ کی
خوں بہتا ہے کانوں سے لگتے ہیں طمانچے بھی
نازوں میں پلی بچی رو رو کے نہ مر جائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.