Bekason Ka Qafila
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mir Hasan Mir
بیکسوں کا قافلہ ہے شام کا بازار ہے
خواہر عباس غازی قافلہ سالار ہے
کیوں نہ رونے کی صدا آئے در و دیوار سے
بے ردا سیدانیاں ہیں اور بھرا دربار ہے
کس طرح مانگے غلاموں سے بھلا عابد ردا
یہ ہے غازی کا بھتیجا اور بڑا خوددار ہے
یوں حقارت سے نہ دیکھو سید سجاد کو
یہ کوئی مفلس نہیں کونین کا سردار ہے
خاک سر پر تازیانوں کے نشاں ہیں پشت پر
طوق ہے زنجیر ہے اور عابد بیمار ہے
یا الہی کیسے گزرے گا یہ نازوں کا پلا
پاؤں میں چھالے پڑے ہیں راستہ پر خار ہے
تازیانے مت لگاؤ سید سجاد کو
تازیانے مت لگاؤ مت ستاؤ ظالمو
یہ بہت زخمی بہت پیاسا بہت بیمار ہے
چپ ہیں عابد غمزدہ گھبرا رہی ہیں بیبیاں
اب بہت نزدیک شاید شام کا دربار ہے
کہہ رہا ہے شاہ کی آنکھوں سے خوں بہتا ہوا
شام کے بازار کی منزل بہت دشوار ہے
جو گھرانہ لٹ گیا تھا دشت میں گوہر کبھی
آج وہ ہی دو جہاں کا مالک و مختار ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.