Haye Bazar e Shaam Haye Zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Laiq Raza
بازار میں زینب کا جانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
سادات کا وہ پتھر کا کھانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
وہ جس نے ہمیشہ گھر میں بھی پردے میں پھپھی کو دیکھا تھا
تھی ساتھ پھپھی بے چادر وہ کس طرح اٹھاتا سر اپنا
سجاد کے سر کا جھک جانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
بالوں سے چھپائے چہرے کو بازار جو زینب آئیں تھیں
افسوس نواسی احمد کی کیا کیا نہ وہاں کہلائیں تھیں
باغی کی بہن وہ کہلانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
بازار میں بہنیں بے پردہ بس بات یہی تڑپاتی تھی
زینب کے کھلے سر پر ہائے جس وقت نظر پڑ جاتی تھی
عباس کے سر کا گر جانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
بھائی کی امانت کو زینب کس طرح بچاتی ظالم سے
ہر ایک قدم پر بچی کے چہرے پہ طمانچے لگتے تھے
ہائے وہ طمانچوں کا کھانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
کس طرح سمجھ پائے کوئی ہائے وہ مصیبت بھائی کی
معصوم سکینہ کو ہائے زنداں میں قضا جب آئی تھی
کرتے میں بہن کو دفنانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
دربار بلایا ظالم نے عباس کی بہنوں کو جس دم
دربار کی جب بات آئی تو کہتیں تھیں یہی زینب اس دم
دربار میں اماں کا جانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
پردیس سے لٹ کر اہل حرم ذیشان و لئیق آئے جس دم
مرقد پہ محمد کی آکر زینب نے کہا رو کر اس دم
پردیس کا ہر منظر نانا یاد آتا ہے دل روتا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.