Salam Hai Arz e Karbala Par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Sajjad Ashraf Naqvi
یہ ایک نوحہ رہے لبوں پر سلام ہے ارض کربلا پر
ہیں جس چمن میں گل پیمبر سلام ہے ارض کربلا پر
حسین مولا کی سر زمیں ہے وہ خلد سے بھی بہت حسیں ہے
یہاں پہ موجود ہیں بہتر سلام ہے ارض کربلا پر
جہاں پہ دین خدا بچا ہے وہ کربلا ہے وہ کربلا ہے
تو کیوں نہ مومن پکارے رو کر سلام ہے ارض کربلا پر
غذائے خلد بریں یہاں ہے یہ بات عالم میں اب کہاں ہے
فرات کا پانی ہے کے کوثر سلام ہے ارض کربلا پر
اسی زمیں کی فضیلتیں ہیں کے اس کے مداح جنتی ہیں
خدا کے انوار سے منور سلام ہے ارض کربلا پر
جو راستے میں کریں گے ماتم تو غازی کرتے ہیں خیر مقدم
نہیں ہے کچھ اور اس سے بہتر سلام ہے ارض کربلا
وہاں پہ جا کے بہاؤ آنسو کٹے تھے جس جا جری کے بازو
جہاں ہے اب بھی شبیہ حیدر سلام ہے ارض کربلا پر
دعا ہے سجاد یہ ہماری ریحان سہ نہ سکیں گے دوری
نجف سے جائیں یہ کہتے چل کر سلام ہے ارض کربلا پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.