Ek sookha sa sarwar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Rehan Abbas
ہاے حسین ہاے اصغر
اک سوکھا سا سرور کا گلا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک ماں کی تھی مقتل میں صدا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
ہر سمت ستم کی بارش میں
روتی ہوی اک ماں تنہا تھی
خنجر کے تلے بھی زہرا تھی
اور تیر کی ضد پہ بھی زہرا تھی
ہاے زہرا نے بھی دیکھ لیا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
چھ ماہ سے بچے کے اوپر
یہ ارض و سماں بھی روتا رہا
اک کند سا خنجر سرور کے
سوکھے سے گلے پر چلتا رہا
پامال ہوا بے جرم و خطا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
مقتل کی زمیں کو صاف کیا
اک ماں نے پریشاں بالوں سے
اک ماں نے سوارا اصغر کی
ذولفوں کو بڑے ارمانوں سے
دل دیکھ کے دونو کا ٹوٹا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
اک اس کا گلا تھا جس کو کبھی
لیتے تھے محمد خود بوسہ
اور ایک گلے کو رو رو کر
خود شاہ زمن نے چوما تھا
دونوں سر مقتل کاٹا گیا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
شبیر کے بے سر لاشے پر
ہاے بالی سکینہ کی آہیں
اس طرح دلاسہ دیتی تھی
کہتی تھی سکینہ سے ماییں
ہم نے بھی دیکھ کے صبر کیا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
اک تشنہ دہن اک تشنہ سخن
دونو ہی تو تھے بے گور و کفن
اک جلتی زمیں کے اندر تھا
اور ایک تھا تیروں پہ بدن
کہتی تھی یہ زہرا واویلا
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
اے شمس عجب غربت کا سماں
تھا اہلِ عزا کے چہروں پر
جب میں نے کہا شبیر کا اور
اصغر کا گلا تھا نیزوں پر
ریحان لبوں پر تھا نوحہ
اک سوکھا سا اصغر کا گلا
اک سوکھا سا سرور۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.