Aye Karbala Aye Karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
اے کربلا اے کربلا اے کربلا اے کربلا
قتل ہوئی آل نبی گھر اجڑ گیا
ماں کو تھا ارمان بہت شادی کا جس کی
رات کو جس کی سر مقتل ہوئی شادی
صبح کو مارا گیا وہ شیر جری بھی
شب کو بنی تھی جو دلہن بیوہ ہوگئی
دشت میں پامال ہوا دلہا کا لاشہ
ہائے تیرے سامنے دریا کے کنارے
پیاسے رہے ساقی کوثر کے دلارے
خاک میں پوشیدہ ہوئے عرش کے تارے
روٹھ گئے زینب مضطر کے سہارے
سبط رسول دوسرا قتل ہوگیا
زخمی ہوا اکبر ذی جاہ کا سینہ
برچھیاں پیوست ہوئیں گڑگیا نیزہ
کوئی بھی اس وقت مددگار نہیں تھا
باپ نے خود بیٹے کے لاشے کو اٹھایا
ہائے کسی نے نہ دیا شہ کو سہارا
پرچم عباس جری خون میں ڈوبا
کٹ گئے اس شیر کے بازو لب دریا
پیاسا ہی مارا گیا سقائے سکینہ
ٹوٹ گئی شہ کی کمر وا مصیبتا
شہ نے کہا ہائے میرا شیر مر گیا
ہاشمی شیروں کا لہو بہہ گیا رن میں
لٹ گئیں کونین کی شہزادیاں بن میں
آگ لگائی گئی زہرا کے چمن میں
جکڑا گیا ہائے یتیموں کو رسن میں
کتنے ہوئے ظلم و ستم اس قدر جفا
لوریاں راتوں کو سناتی تھی جسے ماں
گود کے جھولے میں جھلاتی تھی جسے ماں
دلہا تصور میں بناتی تھی جسے ماں
شیر جری کہہ کے بلاتی تھی جسے ماں
ماں سے جدا ہائے وہ شہزادہ ہوگیا
راکھ ہوئے جل گئے سادات کے خیمے
قید ہوئے سید کونین کے پیارے
آج بھی ہے وقت کے گوہر یہی نالے
مارے گئے بالی سکینہ کے طمانچے
ہوگئی مقتل میں نبی زادی بے ردا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.