Dunya may aaj
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Raza Ali Khan
دنیا میں آج حشر کا دن آشکار ہے
سبطِ نبی کے سینے پہ قاتل سوار ہے
مر جاؤں گا میں آپ ہی اب تھوڑی دیر میں
قالب میں روح کا کوئی دم کو قرار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
اُنّیس سو ہیں تیغ و سنان و تبر کے زخم
سنگِ ستم کے خوں سے بدن لالہ زار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
ہے زلزلہ زمیں کو گہن میں ہے آفتاب
بارش ہے خوں کی چشمِ فلک اشکبار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
چلّا رہی ہے خیمے سے زینب اتر لعیں
بھائی کا میرے زخموں سے سینہ فگار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
کہتے تھے شاہ شمر سے مجھ کو نہ ذبح کر
دنیائے چند روزہ کا کیا اعتبار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
قرآں ہے صاف سینہ یہ بیٹھا ہے جس پہ تو
بوسہ گہِ رسول پہ خنجر کی دھار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
ہے عنقریب پھونکے سرافیل صور کو
بس حکمِ کبریا کا فقط انتظار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
اب آگے کر بیاں نہ انیسِ جگر فگار
یہ دن وہ ہے کہ سارا جہاں اشکبار ہے
دنیا میں آج حشر کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.