Dekhe to koi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Yazdan
دیکھے تو کوئی رونق مقتل میں ذرا آکے
شبیر کے آنے سے دن پھر گئے صحرا کے
---دیکھے تو کوئی
خیمے سے جنازے کی رخصت کا سا منظر ہے
آئیں گے نہ پھر اکبر میدان میں اب جاکے
---دیکھے تو کوئی
پامال سومے اسپا ایسا نہ ہوا کوئی
بکھرے ہوئے ٹکڑے ہیں ہر سمت میں دلہا کے
---دیکھے تو کوئی
اے عزم طلب غازی اب کوئی نہیں باقی
عباس ذرا آنسوں رک جانے دو آپا کے
---دیکھے تو کوئی
اموں کے کبھی قصے بابا کی کبھی باتیں
بچی کو سلاتی ہے زینب یہی بہلا کے
---دیکھے تو کوئی
زینب کی صدا سن کر خنجر تلے سجدے سے
خیمے کی طرف دیکھا شبیر نے گھبراکے
---دیکھے تو کوئی
شہید یہ عزا خانے ویران نہیں ہوں گے
تا حشر بھی گر دشمن مارے ہمیں آ آکے
---دیکھے تو کوئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.