Roodad apne gham ki sunati hai Karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Syed Wajhi Hasan Zaidi
سر ننگے چند بیبیاں لاشوں کے درمیاں
صدیوں سے العجل کی صدا دیتا کارواں
جلتے ہوئے خیام سے اٹھتا ہوا دھواں
زنجیر و طوق پہنے ہوئے ایک نوجواں
روداد اپنے غم کی سناتی ہے کربلا
اے آخری حسین بلاتی ہے کربلا
کروٹ بدل رہی ہے ترے انتظار میں
صدیوں سے جاگتی ہے ترے انتظار میں
اصغر کو روز لوری سناتی ہے کربلا
خاموشی کیسے بھولے گی یہ ذوالفقار کی
آتی ہے جب بھی یاد غریب الدیار کی
صحرا میں اب بھی خاک اڑاتی ہے کربلا
ہے کب سے بے قرار تڑپتی ہے آ بھی جا
زینب کی بے ردائی کا پڑھتی ہے مرثیہ
رو رو کے مومنو کو رلاتی ہے کربلا
کس طرح ٹکڑے قاسم و عباس کے ہوئے
کیسے حسین ابن علی زین سے گرے
اک ایک ظلم یاد دلاتی ہے کربلا
تربت میں خون روتا ہے مولا ہر ایک پل
آواز دیتے جاتے ہیں اے لال العجل
زین العبا کو یاد جو آتی ہے کربلا
تکتا ہے تیری راہ غریب الوطن حسین
چودہ سو سال ہوگئے ہے بے کفن حسین
مٹی سے شہ کی لاش چھپاتی ہے کربلا
عاشور والے دن جو تکلم اجڑ گئے
ماؤں سے ایک دن میں جو بچے بچھڑ گئے
سینے سے اپنے ان کو لگاتی ہے کربلا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.