Khwab Safar Arbaeen
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mir Sajjad Mir
اہل زباں نہیں تھے مگر جان جاتے تھے
ماں کی طرح اشاروں کو پہچان جاتے تھے
یوں تو کروڑوں لوگوں میں ہر خاص و عام تھا
لیکن ہر ایک شخص کا زائر ہی نام تھا
اتنا چلا کہ پڑ گئے پیروں میں آبلے
کچھ دیر رک گیا ذرا آرام کے لیے
خرچہ کیے بغیر کئی دولتیں ملیں
دو جنتوں کے بیچ کئی جنتیں ملیں
اتنے میں اک بزرگ پہ میں نے نظر جو کی
رفتار ان کی دیکھ کے ہمت میری بڑھی
سارا بدن تھکن سے بہت چور تھا میرا
دل نے کہا کہ اب نہیں پیدل کا حوصلہ
پھر تو قریب تر مجھے اپنا ہدف لگا
ایک ایک چھالا پاؤں کا در نجف لگا
گزرے وہ مسکراتے ہوئے میرے پاس سے
میں نے کیا جو غور تو مصنوعی پاؤں تھے
کرب و بلا نصیب سے جانا نصیب ہو
پھر لوٹ کر وہاں سے نہ آنا نصیب ہو
یہ کربلا ہے آئی جو کانوں میں اک صدا
بے ساختہ زبان پہ اک شعر آ گیا
کس سے انہیں ملاؤں کے بس لاجواب تھے
دو روضے کب تھے رات کے دو آفتاب تھے
ہم پل پہ چل رہے تھے کہ یکسر دکھائی دی
عباس اور حسین کے روضوں کی روشنی
کہنے لگا کہ رخ کو ذرا سوئے شام کر
ہاتھوں کو جوڑ بنت علی کو سلام کر
لبیک یا حسین کے نعرے تھے چار سو
کیسے بیاں ہو دل نے جو کی مجھ سے گفتگو
بس سوچ ہی رہا تھا کروں شکر کبریا
آنسو نے مجھ سے پہلے وہاں سجدہ کر لیا
کہتا تھا دل جو کرب و بلا لازوال ہے
یہ شام والی بی بی تمہارا کمال ہے
سجاد کیوں کہوں اسے رستہ زمین کا
افلاک کا سفر تھا سفر اربعین کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.