Khawab Safar Arbaeen
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mir Sajjad Mir
سجاد کیا بیان ہو وہ اربعین کا خواب
مٹی کے لوگ اور وہ صحن ابوتراب
نعرہ جو گونجتا تھا جناب امیر کا
سارا حرم ہی لگتا تھا میداں غدیر کا
سب کی تھی چاہ مٹھی میں گل کائنات ہو
دست خدا کے روضے کی جالی پہ ہاتھ ہو
وہ ضعف تھا کہ سارا بدن ہی نڈھال تھا
سرکار کی ضریح پہ جانا محال تھا
پہلو میں میرے صاحب ایمان تھا کوئی
داڑھی میں اس کے گرد تھی سلمان تھا کوئی
بولا وہ مسکراتے ہوئے بندہ احد
مولا علی سے بڑھ کے کہو یاعلی مدد
جیسے ہی یاعلی کہا رستہ سا بن گیا
قدموں میں ان کے جوڑ کے ہاتھوں کو پھر کہا
یا ابوتراب چاہیے عرش اولی کا اذن
میں لینے آیا ہوں سفر کربلا کا اذن
لے کر ابوتراب سے اذن سفر بڑھا
چوکھٹ پہ اپنے مولا کی سجدہ ادا کیا
نکلا حرم سے جب تو میں دنیا سے آگے تھا
پہلا قدم ہی سرحد سدرہ سے آگے تھا
سیدھے تھے مثل تیر جو مثل کمان تھے
جنت کی طرح بوڑھے وہاں پر جوان تھے
منظر وہ تھے کہ عقل بھی حیران تھی میری
وہ کربلا کی راہ تھی یا عشق کی گلی
زائر کی جوتیاں کوئی سیتا ہوا ملا
نوکر کی طرح تھا کوئی پانی لیے کھڑا
بولا یہ کوئی کیجئے گھر میں میرے قیام
آرام کا ہے آپ کے موجود انتظام
کہتا تھا چلیے آپ کو کھانا کھلاؤں گا
چل چل کے تھک گئے ہیں میں پاؤں دباؤں گا
غازی کی سلطنت کی عجب زیب و زین تھی
جس سمت بھی نظر کی نیاز حسین تھی
زائر ہی کہہ کے مجھ کو بلایا گیا وہاں
زائر ہی کہہ کے مجھ کو کھلایا گیا وہاں
میں نے بھی جس سے بات کی زائر کہا اسے
جس سے بھی کوئی چیز لی زائر کہا اسے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.