Tum bin kai raaton se main soi nahi baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
تم بن کئی راتوں سے میں سوئی نہیں بابا
کیا یاد سکینہ تمہیں آئی نہیں بابا
یاد آتا ہے وہ آپ کا سینے پہ سلانا
منہ چومنا اور گود میں شفقت سے بٹھانا
ننھے سے مرے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگانا
اب پوچھنے والا مرا کوئی نہیں بابا
فرمایا تھا یہ آپ نے مٹی پہ سلا کر
سو جانا جہاں تجھ کو سلائے تری مادر
یہ دیکھیے بیٹھی ہوں میں زنداں کی زمیں پر
میں آج بھی اس بات کو بھولی نہیں بابا
دیتا تھا سزا شمر یوں بالوں سے پکڑ کر
دوڑائے چلا جاتا تھا رہوار ستمگر
مجبور تھی دوڑوں یوں ہی گھوڑوں کے برابر
حالت وہ مری آپ نے دیکھی نہیں بابا
میں کیسے کہوں کیسی تھی اس وقت غریبی
ملنے کو ہمیں آئی تھی جب ہند کی بیٹی
پہنے ہوئے کانوں میں وہ میرے ہی گہر تھی
رملا سے مگر کچھ بھی میں بولی نہیں بابا
اک موڑ پہ ظالم نے ستایا مجھے ایسے
لے آیا مجھے وہ سر عباس کے آگے
اور سامنے ان کے مجھے مارے تھے طمانچے
سب سہہ گئی چپ چاپ میں روئی نہیں بابا
پوتی ہوں میں زہرا کی بس اک بار کہا تھا
وہ سنگ گرے مجھ پہ لہو اتنا بہا تھا
چہرہ مرا ماں سے بھی نہ پہچانا گیا تھا
اب گھر کا حوالہ کبھی دیتی نہیں بابا
اکبر کہا بی بی نے کمر خم ہوئی میری
دادی کی طرح چھائی ہے بالوں پہ سفیدی
فضہ کی طرح چھائی ہے چہرے پہ ضعیفی
اب جینے کی خواہش بھی تو باقی نہیں بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.