Darya se koi ja kar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Hasan Mir
دریا سے کوئی جا کر غازی کو بلا لاے
ایسا نہ ہو غربت میں گھر زہرا کا لٹ جاے
اک باپ ضعیفی کے عالم میں اکیلا ہے
اور شیر سے بیٹے کے لاشے کو اٹھانا ہے
کوئی تو سہارا دے لللہ کوی آے
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
رخ کر کے سوے دریا ہاتھوں سے کمر تھامے
اکبر کے جنازے پر شہ کہتے تھے رو رو کے
کیا بات ہوی اب تک عباس نہیں آے
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
ہے لاکھوں عدو رن میں اور سبط نبی تنہا
زخمی ہے بہت زخمی پیاسا ہے بہت پیاسا
مظلوم کی گردن پر شمشیر نہ چل جاے
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
زینب کا جری بھای مارا گیا مقتل میں
گھبرای ہوی بہنا انسانوں کے جنگل میں
اک ایک سے رو رو کر یہ کہتی رہی ہاے
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
مظلوموں کے خیموں میں اب غم کا بسیرا ہے
کل تک تھی جہاں رونق اب گہرا اندھیرا ہے
شام آگیء غربت کی تاریک ہوے ساے
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
سادات کے خیموں کو ہے گھیرے ہوے شعلے
کہتی ہے نبی زادی گھبرای ہوی رو کے
گھر لٹ گیا اس بن میں چادر بھی نہ چھن جاے
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
حالت ہے عجب گوہر معصوم سکینہ کی
خوں بہتا ہے کانوں سے لگتے ہیں طمانچے بھی
نازوں میں پلی بچی رو رو کے نہ مر جاۓ
دریا سے کوئی جا کر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.