Chadar Dikha Dikha Ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
چادر نہ کفن ہے دور وطن
بے پردہ بہن ہاتھوں میں رسن
عباس کی بہن کو شامی رلا رہے ہیں چادر دکھا دکھا کے
رستہ بنا رہی ہے بنت علی کا فضہ کانٹے ہٹا ہٹا کے
بھائی بہن کی آنکھیں نم ہوتی جا رہی ہیں
بنت علی کی سانسیں کم ہوتی جا رہی ہیں
خنجر چلا رہا ہے زینب کے دل پہ ظالم خنجر دکھا دکھا کے
پردیس میں کسی پر ایسا نہ وقت آئے
نا محرموں میں کوئی یوں بے ردا نہ جائے
کرتے ہیں یہ دعائیں اہل حرم کے بچے جھولی اٹھا اٹھا کے
پردے میں بھی جو بی بی چلتی نہ تھی زیادہ
پردیس میں اب ان پر آیا ہے وقت کیسا
لائے ہیں شام والے ان شاہ زادیوں کو پیدل چلا چلا کے
اک بچی کہہ رہی ہے آؤ مدد کو بابا
دادی کی طرح میں بھی اب ہو گئی ضعیفہ
زخمی کیا ہے پہلو ناقے سے ظالموں نے مجھ کو گرا گرا کے
جاتے ہیں جس طرف بھی اہل حرم کھلے سر
کھاتی ہیں پہلے درہ کھاتی ہیں پہلے پتھر
اپنے لہو میں تر ہیں زہرا کی بیٹیوں کو فضہ بچا بچا کے
وہ شامیوں کے طعنے وہ مسکراتے چہرے
بے پردہ ساتھ اپنے بنت علی کو لے کے
سجاد کیسے بھولیں اس بھیڑ سے گزارنا نظریں جھکا جھکا کے
زخموں کی وہ تکلم تعداد جانتے ہیں
مہدی کو بھی خبر ہے سجاد جانتے ہے
مارے ہیں کس نے کتنے حیدر کی لاڈلی کو پتھر اٹھا اٹھا کے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.