Karyal Jawan Ki Lash Uthane Chale Hain Hum
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
گھوڑے سے گر کے جب علی اکبر نے دی صدا
اپنی کمر کو تھام کے شبیر نے کہا
یہ امتحاں ضعیفی میں مجھ کو نبھانا ہے
اکبر کو لے کے خیمہ زینب میں جانا ہے
رستے میں لڑکھڑائیں نہ شبیر کے قدم
غربت پہ اپنی رویا ہے خود ابن فاطمہ
گر گر کے طے کیا ہے یہ مقتل کا فاصلہ
بس ہم سے دور لاش ہے اکبر کی دو قدم
رعشہ ہے اس قدر کے لرزتے ہیں میرے ہاتھ
لاشہ ہے یہ رسول کا اکبر کے ساتھ ساتھ
دو لاشے ایک ساتھ اٹھائیں گے کیسے ہم
اس حال میں کہیں مجھے زہرا نہ دیکھ لیں
میری کمر جھکی ہوئی بابا نہ دیکھ لیں
آتے ہی ہونگے میری مدد کو شہ امم
سینے میں کہہ کے توڑی ہے ظالم نے یہ سناں
اب دیکھنا حسین کی نکلے گی کیسے جاں
ظالم کو یہ بتانا ہے ابن علی ہیں ہم
اس حال میں خیام میں جاؤں گا کس طرح
زینب کی کائنات اٹھاؤں گا کس طرح
زہرا کا چاند کرب و بلا میں ہوا ہے خم
اماں کے ساتھ مل کے سناں میں نے کھینچ لی
ہاتھوں میں اب ہمارے وہ طاقت نہیں رہی
عباس کیا گئے میرے بازو ہوئے قلم
باہیں گلے میں ڈال دیں اکبر نے جس گھڑی
ابن علی نے رو کے تکلم صدا یہ دی
سانسیں بچی ہیں اب میرے اکبر کے پاس کم
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.