Pukarein Sani e Zahra Hussain Tanha Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Shahzada Hasnain Shahzada
پکاریں ثانیء زہرا حسین تنہا ہے
رہا نہ بھائی نہ بیٹا حسین تنہا ہے
میں اپنے بھائی کی امداد کے لیے جاؤں
گلے پہ رکھ کے گلا میں بھی حلق کٹواؤں
نہ روک اب مجھے فضہ حسین تنہا ہے
غضب ہے دیکھ رہی ہوں میں شمر کا خنجر
ہے جانثار شہیدو یہ دشت کا منظر
بچانے آئی ہیں زہرا حسین تنہا ہے
نجف کو دیکھ کے بھرتی رہی یہی آہیں
ہزاروں مارنے والے ہیں یا علی آئیں
ستم کی تیغوں میں بابا حسین تنہا ہے
پلایا کرتی تھی راتوں کو اٹھ کے میں پانی
قضا کے وقت نہیں تشنگی بجھا پائی
کہ تین روز کا پیاسا حسین تنہا ہے
عجیب عالم غربت ہے بنت زہرا پر
کہ کھل کے کہہ بھی نہیں سکتی شاہ کی خواہر
کہیں نہ سن لے سکینہ حسین تنہا ہے
لعین کہتا تھا جی بھر کے تیر برساؤ
کہ نیم جان کو اب پتھروں میں دفناؤ
ہے کون روکنے والا حسین تنہا ہے
علی کی بیٹی کے خطبوں کا ہے اثر اکبر
زمانہ سر کو جھکاتا ہے شاہ کے در پر
یہ کوئی کہہ نہیں سکتا حسین تنہا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.