Karbala Chalo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mir Hasan Mir
کربلا چلو کربلا چلو کربلا چلو
لو آگیا بلاوا، مظلوم کربلا کا
زہرا کا لال قبر میں حسرت یہ لے گیا
اکبر کا کلمہ گویوں نے پرسہ نہیں دیا
اب شہ کو پرسہ دینا ہے کڑیل جوان کا
ماں منتظر ہے بیٹے کے غمخوار آئینگے
آکر میرے حسین پہ آنسو بہائیں گے
بنت رسول تکتی ہے تم سب کا راستہ
خنجر تلے حسین کی آہیں گواہ ہیں
ھل من مغیثنا کی صدائیں گواہ ہیں
کب سے ہمیں بلاتا ہے زہرا کا لاڈلا
جی بھر کے اپنے بھائی کو زینب نہ رو سکی
مجلس زمین کرب و بلا پر نہ ہو سکی
ارمان سیدہ ہیں بچھانے صف عزا
بازو کٹا کے جس جگہ عباس سو گئے
ارمان باوفا کے جہاں دفن ہو گئے
آنسو وہاں گرائیں گے پانی جہاں گرا
جس خاک نے چھپایا تھا بنت علی کا سر
جس نے کفن بنایا تھا لاشے حسین پر
اس کربلا کی خاک کا کرنے کو شکریہ
اک سال بعد بھائی کا سر جس گھڑی ملا
عابد سے رو کے کہتی تھیں یہ بنت سیدہ
دفناؤں گی میں ہاتھوں سے، سر اپنے بھائی کا
قسمت سے وقت آئے گا جب یہ حیات میں
تم اپنی بیٹیوں کو بھی، لے جانا ساتھ میں
اکبر کو وہ سنائیں گی، صغری کا مرثیہ
اس سال اربعین پہ ایسا ہو اہتمام
اے کاش زائروں میں ہو شامل ہمارا نام
اور دیں ہمیں بھی حضرت عباس یہ صدا
چہلم بھی اپنے باپ کا بچی نہ کر سکی
روتی ہوئی وہ شام کے زنداں میں مر گئی
اے کاش کوئی کہہ دے سکینہ سے یہ ذرا
چہلم پہ جیسے آتی ہیں زینب بھی شام سے
اذن سفر ملے جو تکلم امام سے
ہر اک قدم ظہور کی کرتے ہوئے دعا
غربت مسافروں کی مسافر سمجھ سکیں
کیسے چلی تھیں بیبیاں اندازہ ہو ہمیں
آنسو بہاتے شہر نجف سے پیادہ پا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.