Farsh e Matam Ka Bichao Ke Muharram Aaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Moharram recited by Mir Jon Muhammad
فرش ماتم کا بچھاؤ کہ محرم آیا
غم شہ دیں کا مناؤ کہ محرم آیا
علی اکبر کی جدائی نے ہے مارا اس کو
اب نہ صغری کو رلاؤ کہ محرم آیا
باخدا اجر رسالت ہے حسینی ماتم
فرض تم اپنا نبھاؤ کہ محرم آیا
یاد کر کر کے ہر اک تشنہ دہن کو لوگو
پانی پیاسوں کو پلاؤ کہ محرم آیا
بکھرے تھے دشت میں قرآن کے پارے کیسے
یاد میں آنسو بہاؤ کہ محرم آیا
کس طرح گھر ہے یہ سادات کا ویران ہوا
اپنے بچوں کو بتاؤ کہ محرم آیا
لاشے پامال ہوئے خیمے سبھی راکھ ہوئے
پرسہ زہرا کو دو آؤ کہ محرم آیا
وقت ذبح بھی کسی نے نہیں پایا پانی
نوحہ فرمان سناؤ کہ محرم آیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.