Ae Chand Muharram Ke Aana Na Madinay Mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Chand Raat recited by Ali Adil
اے چاند محرم کے آنا نہ مدینے میں
پھر حشر بپا ہوگا زہرا کے دفینے میں
لیلی کو خیالوں میں اکبر نظر آئیں گے
دیوار میں در در میں دلبر نظر آئیں گے
آئینگے مگر آنسو آنکھوں کے نگینے میں
یاد آئیگی صغری کو اکبر کبھی کبری کی
شبیر کی اصغر کی اور بالی سکینہ کی
ہو جائیگی صغری کو مشکل بڑی جینے میں
اے چاند تیرا چہرا صغری نہ کہیں دیکھے
مرجائے گی وہ دکھیا جا چھپ جا کہیں جا کے
مرجائے گی اک بہنا یادوں کے سفینے میں
زینب تجھے دیکھے گی اور روئے گی بھائی کو
یاد آئیگی مقتل کی بھائی کی فدائی کو
مارے گئے سرور تھے تیرے ہی مہینے میں
پانی میں تیرا چہرا جس دم نظر آتا ہے
سجاد کی آنکھوں میں خون جگر آتا ہے
تکلیف بہت ہوتی ہے پانی کو بھی پینے میں
شرمندہ نہ ہو جائے مادر کہیں غازی کی
اے چاند نکلنا کہ اک ماں ہے بہت روتی
یاد آتا اسے غازی روشن تیرے رہنے میں
روتے ہیں اسد، عادل ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کر
ہم جب بھی تجھے دیکھیں یاد آتے ہمیں اکبر
اک درد سا اٹھتا ہے نہ جانے کیوں سینے میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.