Chakkiyan pees ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ameer Hasan Aamir
چلا خنجر تو سرہانے سے پکاری زہرا
چکیاں پیس کے اے لال تجھے پالا تھا
اے میرے لال حسین
تیری گردن پہ کیا کرتی تھی میں پیار کبھی
اپنی تسبیح کو کرتی تھی تیرا حار کبھی
کیا خبر تھی کہ چلے گی یہی تلوار کبھی
اسی گردن پہ تو لیتے تھے پیمبر بوسہ
چکیاں پیس کے۔۔۔
بھر گیا خون میرے خوابوں کی تعبیروں میں
آج ہر سمت سے تو گھر گیا شمشیروں میں
دیکھوں کن اشکوں سے اے لال تجھے تیروں میں
کبھی جبریل جھلاتے تھے تیرا گہوارہ
چکیاں پیس کے۔۔۔
آ میرے لال میں آنچل میں چھپالوں تجھکو
مامتا کہتی ہے باہوں میں بسالوں تجھکو
پھر اسی طرح میں سینے سے لگالوں تجھکو
جیسے اک بار میرا بندھے کفن ٹوٹا تھا
چکیاں پیس کے۔۔۔
تو ہے وہ پھول کے روتا ہے چمن بھی تجھکو
تو مسافر ہے کہ ڈھونڈے گا وطن بھی تجھکو
ہاں مگر دیں گے نہ اشرار کفن بھی تجھکو
وہ بھی چھن جاے گی گر لاش پہ رکھدوں میں ردا
چکیاں پیس کے۔۔۔
شمر کی آنکھوں میں غیرت کی نشانی بھی نہیں
کند ہے اتنا کہ خنجر میں روانی بھی نہیں
خوش ہے حلق میرے لال کہ پانی بھی نہیں
ہاں میرے مہر میں حالانکہ یہ بہتا دریا
چکیاں پیس کے۔۔۔
اب وہ ہمشکل نبی اکبر جرار کہاں
سو گیا دشت میں عباس علمدار کہاں
خاک جنگل میں لٹی ہے تیری سرکار کہاں
کیا اجڑتا ہے بھلا یوں بھی کسی کا کنبہ
چکیاں پیس کے۔۔۔
قاسم و عون و محمد علی اکبر بھی نہیں
ناز تھا جس پہ تجھے اب تو وہ لشکر بھی نہیں
کون بازو تیرا تھامے کہ برادر بھی نہیں
کیا خبر تھی کہ تو ہو جاے گا اتنا تنہا
چکیاں پیس کے۔۔۔
سب کو بتلاتے ہیں یہ لوگ نبی کی امت
اب نہ آنکھوں میں مروت نہ دلوں میں غیرت
کون سا غسل و کفن کیسی نماز میت
چھوڑ جاینگے یہ سب خاک پہ لاشہ تیرا
چکیاں پیس کے۔۔۔
سو گےء رن میں تیرا سوگ منانے والے
خون میں ڈوب گےء خاک اڑانے والے
بیکفن خود ہے کفن تجھکو پہنانے والے
آ تیری لاش پہ میں ڈالوں وہ اشکوں کی ردا
چکیاں پیس کے۔۔۔
عصر عاشور کا ہے عامرر و نیر وہ اثر
منظر کربوبلا چھا گیا ہر منظر پر
ہم مصلے پہ ہو ممبر پہ ہو یا بستر پر
گونجتا رہتا ہے سوچ میں وہی اک نوحہ
چکیاں پیس کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.