Bhai bhai pukarti
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Hasan Mir
اماں رکا نہ شمر لعیں میرے بین سے
سترقدم تھی دور یہ زینب حسین سے
بھائی بھائی پکارتی رہی میں
پھربھی خنجر نہیں رکا اماں
شمر نے کی پھر ایسی گستاخی
مجھ سے دیکھا نہیں گیا اماں
…بھائی بھائی پکارتی
تم جو ذلفیں سنوارا کرتی تھی
انہیں ذلفوں میں ہاتھ تھا اسکا
جہاں بوسے دیےء تھے نانا نے
اسی گردن سے خوں ٹپکتا تھا
سر شبیر یوں اٹھاے ہوئے
شمر خیمے تک آگیا اماں
…بھائی بھائی پکارتی
دیکھ کر مجھکو بین کرتے ہوئے
شمر ہر بار مسکراتا رہا
میری نظروں کے سامنے ظالم
وار گن کر چھری چلا تا رہا
تیرہ ضربیں تھی کند خنجر تھا
اور شبیر کا گلا اماں
…بھائی بھائی پکارتی
چاروں جانب سے گھیر رکھا تھا
تیرے نور نظر کو لشکر نے
تیر برساتا تھا کویء اس پر
کوئی پتھر سے مارتا تھا اسے
ریت زخموں پہ وہ گراتا رہا
جسکو پتھر نہیں ملا اماں
…بھائی بھائی پکارتی
تیغ جس دم چلی اس پر
ہاے عباس کہکے رویا تھا
تیر پیشانی پر لگا جس دم
ہاے اصغر زباں پہ آیا تھا
ہاے اکبر پکارا بھیا نے
جب بھی نیزہ کوئی لگا اماں
…بھائی بھائی پکارتی
جب چلایا تھا شمر نے خنجر
میں نے آنکھوں سے اپنی دیکھا تھا
ہاتھ اپنے اٹھاکے پہلو سے
تو نے سوکھے گلے پہ رکھا تھا
انگلیاں زخمی ہوگیء ہونگی
ہاتھ مجھ سے تو نہ چھپا اماں
…بھائی بھائی پکارتی
ایسی نفرت تھی انکے سینوں میں
یہ بھی سوچا نہ شام والوں نے
دین اسلام میں زبیحا تک
ذبح پیا سے نہیں کیےء جاتے
تین دن سے حسین پیاسا ہے
یہ بھی سوچا نہیں گیا اماں
…بھائی بھائی پکارت
ماں یہ زینب سے کہتی تھی اکبر
میری آغوش میں تھا سر اسکا
میں نے گردن کو کٹتے دیکھا تھا
میں نے سانسوں کو رکتے دیکھا تھا
ہاے آخری بار زیر خنجر بھی
میں نے شبیر سے سنا اماں
…بھائی بھائی پکارت
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.