Jaake Baba Ko Sab Bataungi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Sajjad Mir
بولی دربار میں یہ بنت نبی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
تم نے توہین کی میری کتنی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
ایک دن وہ تھا دیکھ کر مجھ کو اپنے منبر سے اٹھ گئے بابا
ایک یہ دن ہے میرے آنے پر کوئی تعظیم کو نہیں اٹھا
کتنی امت بدل گئی ان کی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
مجھ کو دربار میں کھڑا رکھ کے کر رہے ہو کلام ہنس ہنس کے
ہائے افسوس میری زینب کے سامنے کہہ رہے ہو جھوٹا مجھے
تم نے تحریر چاک کی ان کی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
دیکھ کر مجھ کو پوچھیں گے بابا زخم چہرے پہ کیسا آیا ہے
میں بتاؤں گی پوری طاقت سے کس نے منہ پر طمانچہ مارا ہے
گر گئی کیسے کان کی بالی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
اونچی آواز سے میرے در پر تم علی کو بلائے جاتے تھے
میں تھی بے ہوش جلتے در کے تلے اور در پر سے تم گزرتے رہے
جھک گئی کس طرح کمر میری جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
جس نے آزاد قیدیوں کو کیا تم نے اس کو بنا دیا قیدی
جس نے کفار سے بچایا تھا اس کی گردن میں ڈال دی رسی
بے وفائی کی انتہا کر دی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
میں شکایت کروں گی بابا سے کس نے زہرا پہ ہاتھ اٹھایا ہے
کس نے پہلو پہ ٹھوکریں ماریں کس نے محسن کو میرے مارا ہے
ایک بھی شکل میں نہیں بھولی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
میر سجاد کیا بیاں ہو بھلا گھر میں جب آئی لوٹ کر زہرا
ہو کے بے چین پوچھتے تھے علی بولے دربار میں ہوا کیا کیا
صرف رو رو کے بی بی کہتی رہی جاکے بابا کو سب بتاؤں گی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.