Main yeh nahi kehti ke amari mein bitha do
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Nadeem Sarwar
گھر سے جانے لگے شبیر تو صغری نے کہا
لے چلو مجھ کو بھی بیمار تمہیں دے گی دعا
ہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغری
یاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغری
بابا تنہائی سزا ہے مجھے ایسی سزا نہ دو
میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو
بابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو
میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو
سب بیٹھیں سواری پہ میں پیدل ہی چلوں گی
وعدہ ہے کسی کو کوئی تکلیف نہ دوں گی
بابا بابا اماں سے میں ہرگز نہ کہوں گی کہ دوا دو
پلکوں سے میں سایہ علی اصغر پہ کروں گی
اماں کی سواری سے بہت دور رہوں گی
بابا بابا ہاں کہہ کے میری زیست کے کچھ روز بڑھا دو
میں پانی پلاؤں گی سواری کو تمہاری
بہلاؤں گی رستے میں سکینہ کو تمہاری
بابا بابا جو کام کنیزوں کے ہیں سب مجھ کو بتا دو
سب نظریں چراتے ہیں کوئی دم نہیں بھرتا
سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا
بابا بابا توقیر میری یہ ہے تو مرنے کی دعا دو
کیا گزرے گی جب گھر سے چلے جائیں گے اکبر
کیسے مجھے ہر بات میں یاد آئیں گے اکبر
بابا بابا کب آئیں گے لینے مجھے بھیا یہ بتا دو؟
ہاں اپنی محبت کا میں اظہار تو کر لوں
ٹھہرو علی اصغر کو ذرا پیار تو کر لوں
بابا بابا ناقے سے جھلک ننھے مسافر کی دکھا دو
ریحان وہ بیمار یہ تھک ہار کے بولی
اے سرور ذیشان تمنا ہے میری
بابا بابا جاتے ہو تو تربت میری تم خود ہی بنا دو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.