Qabr e Ahmad Pe Fatima Zehra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Muhammad Raza Mangla
قبر احمد پہ فاطمہ زہرا رو کے بابا سے کرتی ہیں نوحہ
کیا قیامت تیری بیٹی پہ پڑی ہے بابا
میرا پہلو ہوا زخمی پسلیاں ٹوٹی ہیں میری
زندگی اب میری دشوار ہوئی ہے بابا
مجھ پہ الزام لگاتا تھا مدینہ سارا
میری بیٹی نے مرے بارے میں کیا کیا نہ سنا
خم کمر کیوں ہوئی میری کیوں ہے بالوں میں سفیدی
مجھ سے زینب یہ مری پوچھ رہی ہے بابا
صرف یہ ہی نہیں بابا کہ میں دربار گئی
تیری بیٹی بھرے دربار میں رسوا بھی ہوئی
تخت سے کوئی نہ اٹھا ہائے بیٹھا رہا مجمع
مگر افسوس تری بیٹی کھڑی ہے بابا
تیرے بعد ایسے زمانے نے ستایا مجھ کو
ایک لمحے بھی کہیں چین نہ آیا مجھ کو
پرسہ یوں مجھ کو دیا ہے حق مرا چھین لیا ہے
اب سمجھ آتا ہے کیا بے پدری ہے بابا
جلتا دروازہ گرا مجھ پہ بہا ہے میرا خوں
ہاتھ بھی زخمی ہوئے کیسے میں تسبیح پڑھوں
ہوگئی پہلو شکستہ میرا محسن گیا مارا
رات دن اب تو فقط نوحہ گری ہے بابا
جس کی تعظیم کا اعلان کیا تھا تو نے
رسیاں باندھ دیں ظالم نے گلے میں اس کے
لوگ کرتے نہیں احساس اس کو بس وعدے کا ہے پاس
یہ سمجھتے ہیں کہ لاچار علی ہے بابا
اس طرح مجھ پہ لگایا گیا پہرہ بابا
کر نہیں سکتی میں غم میں ترے گریہ بابا
دور جا کے یہاں گھر سے روز جاتی ہوں میں رونے
اپنے ہی شہر میں یہ دربدرى ہے بابا
آگئے آگ لعیں لے کے جو دروازے پر
در جلایا بھی گرایا بھی وہی در مجھ پر
کتنے ظالم وہ لعیں تھے در کے اوپر سے وہ گزرے
جانتے تھے کہ تری بیٹی گری ہے بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.