Haye Jab Imam Main Bana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Nadeem Sarwar
عاشور کو غش سے جو پھوپھی جاں نے اٹھایا
جلتا ہوا لٹتا ہوا ساماں نظر آیا
بابا نا علمدار نہ لشکر تھا ہمارا
ماں بہنوں کے سر پر بھی رداؤں کو نہ پایا
اس حال میں دستار امامت کو سنبھالا
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
چھا چکی تھی شام کی گھٹا
جل رہا تھا ہائے گھر میرا
لٹ رہا تھا مال و زر میرا
ہنس رہے تھے ہم پے اشقیا
سامنے پھوپھی تھیں بے ردا
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
میرے سامنے تھی کربلا
گریہ و بکا کا شور تھا
میتیں پڑیں تھیں جابجا
رو رہی تھی نہر علقمہ
اور میں یہ دیکھتا رہا
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
مجھ سے کہہ رہی تھیں یہ پھوپھی
مسند رسول جل گئی
چل گئی حسین پر چھری
اب امام وقت ہو تمہی
ہو رہی تھی ایسے ابتدا
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
ہائے شامیوں کا اژدہام
اور وہ غیرتوں کا قتل عام
خون رو رہا تھا صبح و شام
کہہ کے ہائے شام ہائے شام
کیوں نہ اس گھڑی میں مر گیا
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
آج ہم پے تنگ ہے زمیں
رو رہیں ہیں زینب حزیں
میں بحیثیت امام کی
رکھ رہا ہوں خاک پر جبیں
کر رہا ہوں سجدہ خدا
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
سرور و ظفر وہ شام غم
وہ یتیم شاہ پر ستم
کہہ رہا تھا جو بصد بکا
ہائے وہ مصیبت و الم
مر رہا تھا جو قدم قدم
مرثیہ تھا اک غریب کا ہائے جب امام میں بنا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.