Behno ke saamne
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Shahid Baltistani
یا حسین یا حسین
یا قتیل جفا ہاے غریب حسین
ہاے غریب حسین
کاٹا گیا ہے دشت میں اک بھای کا گلا
بہنوں کے سامنے
خنجر تلے حسین نے غازی کو دی صدا
بہنوں کے سامنے
وہ جانتا ہے آل نبی ہے کھڑی ہوی
قرآں پہ پاؤں رکھتا ہے ظالم گھڑی گھڑی
ذوالفیں پکڑ کے شاہ کی ہنستا ہے بے حیا
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
خنجر وہ کند اور وہ سوکھی ہوی رگیں
چپ چاپ سہلی بھای نے ساری اذیتیں
مجبوریوں نے شہ کو تڑپنے نہیں دیا
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
بابا کو مارتا ہے وہ دولت کے واسطے
ہے جس کے پاس جو میرے دامن میں ڈال دے
پھیلا کے ہاتھ دیتی ہے بچی کوی صدا
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
کیسے بچانے بھای کو وہ بھای آے گا
زینب پکاری اب اسے کوی نہ دے صدا
شرمندہ ہو گا دشت میں عباس با وفا
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
شہ کہہ رہے تھے ڈال دو چادر کو جسم پر
مجھ پر پڑے نہ زینب و کلثوم کی نظر
طےء کیسے ہوگا قتل کا اماں یہ مرحلہ
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
ہے بیٹی بوتراب کی یہ دیکھتی رہی
دو بھائیوں پہ کیسی قیامت گزر گیء
اک کے بدن میں تیر تھے تیروں پہ ایک تھا
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
تھا کربلا کے بن میں تکلم عجیب حال
اپنے لہو میں لال ہوا فاطمہ کا لال
سجدے سے سر حسین کا نیزے پہ آ گیا
بہنوں کے سامنے
کاٹا گیا ہے دشت میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.