Aye Kufio
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
غل مچاتے بے ادب وہ کوفیان بد زباں
وحشتوں کے دائرے میں تھیں علی کی بیٹیاں
ظالموں کے سامنے قاتلوں کے درمیاں
چھوٹی دختر علی کی آ رہی تھی یہ صدا حسین
نوحہ یہ تھا کلثوم کا اے کوفیان بے وفا ہے
اے کوفیان بے وفا اے ظالموں اہل جفا
تمہیں خبر تم ہو آشنا
کس کا گھر لٹا کس کا خوں بہا
ہائے تم نے یہ کیا کر دیا
کس کو لوٹ کر گھر جلا دیا
زبانوں پر کلمہء خدا
پھر بھی سینوں میں دل ہے سنگ کا
اس حسین کو قتل کر دیا
جس کے پاس ہے مرضیء خدا
دین جس کے گھر سرخرو ہوا
جس حسین کا نانا مصطفی
جس حسین کا بابا مرتضی
جس حسین کی ماں ہے سیدہ
روبرو اگر ہوگا سامنا مت
کیسے جاؤ گے پیش کبریا
ظلم کون سا ہم پہ نہ ہوا
ہم رہے راضی با رضا
بھائی کو میرے دھوکا دے دیا
ساتھ نہ دیا اکیلا کر دیا
پہلے خط لکھے اور بلا لیا
پھر غریب کا خوں بہا دیا
زمین پر تم بنو خدا
وقت ہے قریب ہو گا فیصلہ
اے کوفیو ظلم ہو گیا
آل مصطفی سے مقابلہ
عترت نبی ہم ہیں باخدا
زیر آسماں سر کھلا ہوا
باندھ کر ہمیں قید کر لیا
اور پھر ہمیں باغی کہہ دیا
جس کے نانا سے دین حق ملا
اس نواسے کو یہ صلہ ملا
وا مصیبتا یوں چمن لٹا
گھیر کر ہمیں لائے کربلا
بند ہم پہ پھر پانی کر دیا
قتل کر دیا گھر کا گھر میرا
سیدوں کے سر کر دیئے جدا
ظلم کی ہوئی ہم پہ انتہا
تم پہ وائے ہو ہائے کیا کیا
اجر مصطفی یوں ادا کیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.