Mazloom Ka Matam Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Nadeem Sarwar
مظلوم کا ماتم ہے، مظلوم کا ماتم
لوگو یہ تماشا نہیں اس رونے پہ ہنسنا نہیں
گھر فاطمہ زہرا کا کس طرح سے اجڑا
جب ہوگی قیامت تو یوں آئیں گی زہرا
اک ہاتھ میں دو بازو اک ہاتھ میں پرچم
کیا ملتا ہے ماتم میں کس طرح بتائیں
مظلوم کو روتے ہیں مظلوم جہاں میں
پتھر نہیں سینے میں دل ہے تو یہ ماتم
لوگو نبی زادی کا بازاروں میں آنا
اور باندھ کے رسی میں درباروں میں لانا
اس بات پہ روتے ہیں اس درد کا ماتم
جب پیارے محمد سے میں پیار کروں گا
پھر اس کے نواسے کا ماتم بھی کروں گا
جس گھر میں محمد ہیں اس گھر کا یہ ماتم
خط فاطمہ صغری کا کس وقت ملا ہے
جب بھائی سناں کھائے ریتی پہ پڑا ہے
خط کون پڑھے تیرا تنہائی کا عالم
زنجیروں میں جکڑا ہے شبیر کا بیٹا
ماں بہنیں کھلے سر تھیں خوں روتا تھا مولا
سجاد سے پوچھو تو کیوں ہے یہ کمر خم
ریحان کا سرور کا بخشش کا وسیلہ
یہ نوحہ یہ ماتم ہے یہ فرش عزا کا
اور سر پہ گھلا اپنے عباس کا پرچم
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.