Shaban Ka Nazara Kya Hoga
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup recited by Mir Sajjad Mir
زہرا کے گھر میں سوچو تو شعباں کا نظارہ کیا ہوگا
اترے ہیں جہاں اتنے سورج اس گھر کا اجالا کیا ہوگا
زینب کی آمد کا منظر، اللہ اللہ حیدر حیدر
جو شیر خدا کے لب پر تھا بیٹی کا قصیدہ کیا ہوگا
آتے ہی مصلے پر شہ نے مادر کے ساتھ عبادت کی
جب پہلا سجدہ ایسا ہے، پھر آخری سجدہ کیا ہوگا
عباس کو سینے سے ہر دم شبیر لگا کر رکھیں گے
تم کس کا جھلاؤ گے جھولا جبریل تمہارا کیا ہوگا
صفین میں مالک کہتے تھے، مالک عباس قیامت ہے
یہ تیرہ برس کا جملہ تھا بتیس برس کا کیا ہوگا
رجعت کے دور میں آئیں گے دعبل، حسان و انیس و دبیر
یہ سارے مل کر لکھیں گے قاسم کا جو سہرا کیا ہوگا
زلفیں کیسی، کیسی آنکھیں کیسا چہرا ہو مؤذن کا
اللہ نے زینب سے پوچھا اکبر کا سراپا کیا ہوگا
دو انگلی پر باب خیبر، حیدر نے رکھا اور ہنس کے کہا
اتنا تو ہلکا ہے یہ در اب اس سے ہلکا کیا ہوگا
نزدیک نہیں آتے منکر ڈرتے ہیں ہاتھ لگانے سے
جس شیر کا پرچم ایسا ہو، اس شیر کا پنجہ کیا ہوگا
سجاد تیرے در سے مولا، اٹھے گا نہیں مثل سلمان
دیوانہ کہہ کر ماریں گے اور اس سے زیادہ کیا ہوگا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.