Beh raha hai khoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Hasan Sadiq
بہہ رہا ہے خو ںکا دریا لاشہِ شبیر سے
پانی پانی کی صدا آتی ہے زخمِ تیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
لاشہِ اکبر پڑا ہے خون میں ڈوبا ہوا
کہہ دو واپس لوٹ جائیں قاصدِ ہمشیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
کربلا کے دشت میں تھا جرم پانی مانگنا
ہو گئے خاموش اصغر حُرملا کے تیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
جس کے بوسے لے کے ملتا تھا محمد کو سکوں
وہ گُلو کاٹا گیا ہے آج کُند شمشیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
سر برہنہ ہو گئی ہیں لُٹ گئی ہیں چادریں
جن کو ڈھانپا تھا نبی نے چا درِ تطہیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
شام میں جائو گی ننگے سر میرے مرنے کے بعد
ہو کے رخصت کہہ رہے تھے شاہِ دیں ہمشیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
آئے ہیں اہلِ حرم گُلزار کیوں دربار میں
عابدِ بیمار ہیں جکڑے ہوئے زنجیر سے
بہہ رہا ہے خوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.