Aasman par rehne wale mere ghar par aa gaye
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Saleem Mastan
آسماں پر رہنے والے میرے گھر پر آگئے
ایک مجلس ہی رکھی تھی سب اتر کر آگئے
مجلس شبیر کا یہ بھی ہمیں صدقہ ملا
انبیاء بیٹھے جہاں پر ہم برابر آگئے
کتنے چہرے کھل گئے اور کتنے شجرے گھل گئے
ہم تو محفل میں فقط نعرہ لگا کر آگئے
گود میں اکبر کو لے کر شہ نے رو کر یہ کہا
دیکھو زینب پھر سے نانا میرے گھر پر آگئے
جب علی اکبر کی خوشبو سے مہک اٹھا جہاں
لوگ شہ سے پوچھتے تھے کیا پیمبر آگئے
سن کے زینب کی خطابت سن رسیدہ کہتے تھے
ہم غلط ہیں یا یہاں پر سچ میں حیدر آگئے
شہ پہ مرنے کا مزہ معلوم تھا تم کو حبیب
اس لیے تم جان دینے بار دیگر آگئے
ظرف ہے شرط اس لیے سلمان سے باتوں کے بیچ
چپ ہوئے اکثر علی خود جب ابوذر آگئے
دیکھ کر جنت کو سارے ماتمی کہتے تھے یہ
یہ تو ہم پھر سے زمین کربلا پر آگئے
جوش میں آئے تھے سب کے سب نبی کو مارنے
سوتے حیدر کو جو پایا سب کو چکر آگئے
آگے اڑ جبریل سے شبیر کا صدقہ ہے یہ
اس کے فطرس صرف پر ہیں تیرے شہ پر آگئے
تو وسیلے کا ہے منکر پھر نبی سے پوچھ یہ
کیوں شفا کے واسطے وہ زیر چادر آگئے
دیکھ کر یہ منقبت فاضل سے کہتے تھے ملک
تم تو بخشش کا حوالہ ساتھ لے کر آگئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.