Qasim Hai Mera Naam Hasan Ka Hoon Main Beta
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Qasim (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
قاسم ہے مرا نام حسن کا ہوں میں بیٹا
میں موت کی نعمت ابھی تقسیم کروں گا
دعوت ہو عشیرہ کی یا صفین کا حملہ
راس آتا نہیں تم کو علی تیرہ برس کا
اے شامیو اس وقت مری عمر ہے تیرہ
مت سوچنا میں پہلے پہل رن میں کھڑا ہوں
عباس کا شاگرد ہوں سب سیکھا ہوا ہوں
تم کیا ہو ہرا سکتا ہوں میں موت کو پنجہ
ارزق کا خود کاٹ کے سر سے نکل گئی
خوں پی کے حلق بانیء شر سے نکل گئی
زخمی کی آہ بن کے جگر سے نکل گئی
دل میں نہ جی لگا تو کمر سے نکل گئی
چلائی موت اب یہ شقی زیر ہوگا
شیر خدا کے شیر کا دل شیر ہو گیا
او ارزق شامی میں مقدر کا دھنی ہوں
تم پانچوں کو بھیجوں گا سقر پنجتنی ہوں
بتلا دو الگ مرنا ہے یا سب نے اکٹھا
میں گھول دوں پانی میں اگر غیظ و غضب کو
اک گھونٹ میں پی جائے اجل دشت میں سب کو
بابا کی قسم زہر ہلاہل ہو یہ دریا
بابا نے تو اک مرد کو عورت تھا بنایا
تم پہلے ہی نامرد ہو لڑنا نہیں آتا
تلوار نہیں شام سے اب چوڑیاں لانا
یہ دولہا کی تلوار دلہن بن کے چلے گی
تم سب کو لگائے گی ابھی خون کی مہندی
پردے میں چلے جاؤ گے گھونگٹ جو اٹھایا
گستاخ حسین ابن علی سامنے آئے
بیعت جسے لینی ہے زرا ہاتھ بڑھائے
عمو کی قسم ہاتھ قلم کردوں گا اس کا
سجاد کہا اس نے نہ غازی کو بلاؤ
پہلے زرا قاسم کو تو میداں میں ہراؤ
وہ تم سے لڑیں گے نہیں معیار ہے ان کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.