Barhte Chalo Suay Haram Sar Par Ho Ghazi Ka Alam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Joan Rizvi
بڑھتے چلو سوئے حرم سر پر ہو غازی کا علم
لب پر ہو سب کے یہ صدا لبیک یاحسین
حیدر کے دل کے چین زہرا کے نور عین
لبیک یاحسین لبیک یاحسین
تمہاری جانب جو ابن زہرا یہ بڑھتے ہیں قافلے
بتاتے ہیں کم نہ ہوں گے دنیا کو عشق کے سلسلے
ہزار مشکل ہو زائروں کے نہ کم ہوئے حوصلے
یہ بچے بوڑھے اور جواں ہیں علم اٹھائے رواں دواں
ہے قربان شہ پہ جاں کہتے ہیں سب یک زباں
ہیں ننگے پاؤں جو کربلا کی طرف یہ سب رخ کیے
چلے ہیں زینب کی یاد میں یہ حسین تیرے لیے
اے مولا ان سب کا چل کے آنا قبول کر لیجیے
جو بھی ہے مشکل میں گھرا اس کو ہے تیرا آسرا
زینب کے صدقے میں سن لینا ہر دل کی صدا
جو اس برس بھی حسین در پر ترے نہ ہیں آ سکے
جو تیرے مقتل میں تیرے غم میں لہو بہا نہ سکے
رہی یہ حسرت کہ تیری تربت پہ جاں نہ لٹا سکے
غازی سے یہ مولا کہیں نام اب کے ان سب کے لکھیں
فہرست زائرین کی جس وقت وہ لکھنے لگیں
یہ زائروں کے لیے جو موکب کہیں لگاتے ہیں
جو اپنے ہاتھوں سے ٹھنڈا شربت انہیں پلاتے ہیں
جو نام شبیر پر تبرک انہیں کھلاتے ہیں
ان سب کا ہے یہ مرتبہ راضی ہیں سب سے فاطمہ
حر کی طرح سے ان سب پر ہیں رشک کرتے انبیا
ظہور مہدی ہو جب تو قبروں سے ہم بھی اس دم اٹھیں
امام مہدی کی ہم نیابت میں کربلا کو چلیں
اے کاش ساتھ ان کے ہم بھی پیدل یونہی مشی کریں
مہدی کے ہم سب ساتھ ہوں سینوں پہ سب کے ہاتھ ہوں
آنکھوں سے رواں ہوں اشک پہنچے یوں ہم سب کربلا
ہے لگتا زائر کو جیسے کوئی گلے لگاتا ہے
بیان کیسے ہو شہ کا روضہ نظر جب آتا ہے
تو سر کو غازی کے در پہ زائر وہیں جھکاتا ہے
کہتا ہے غازی شکریہ مجھے کربلا میں بلا لیا
بندے پہ یہ کرم کیا شبیر سے جو ملا دیا
ہیں جو عزادار شاہ والا جہاں سے رخصت ہوئے
وہ اپنی قبروں سے کربلا کی طرف ہیں سب جا چکے
قضا بھی ان کو جدا نہیں کر سکی ہے حسین سے
عاشور ہو یا ہو اربعین ہے اسد اور جون کو یہ یقیں
ماتم کے ہر حلقے میں ہوتے ہیں وہ سب وہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.