Arbaeen Pe Chala Hoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Hasan Ali
میرے مولا نے مجھ کو بلایا
بس یہی سوچ کر رو رہا ہوں
نہ کوئی خوف نہ کوئی ڈر ہے
کیا حسین عشق کا یہ سفر ہے
سب کے لب پر ہے ہائے حسینا
کربلا کی طرف ہر نظر ہے
آج پیدل نجف سے میں چل کر
کربلا کی طرف جا رہا ہوں
ہر طرف معجزہ ہو رہا ہے
جو بھی چاہا مجھے مل گیا ہے
زائروں کے جو دل کی ہے چاہت
میرے مولا کو سب کچھ پتا ہے
جلد آ جائیں غیبت سے مہدی
ہر قدم بس یہی مانگتا ہوں
مشک تھامے ہیں غازی کے نوکر
سب کو پانی پلاتے ہیں رو کر
یہ پیاسی سکینہ کا صدقہ
کوئی پیاسا نہیں اب یہاں پر
ہاں سبیلیں نظر آ رہی ہیں
اس سفر میں جہاں دیکھتا ہوں
کربلا میں قدم جب رکھوں گا
اپنے مولا سے رو کر کہوں گا
شکریہ مجھ کو زائر بنایا
بس یہ کہہ کہہ کے روتا رہوں گا
سامنے ہوگا اب وہ نظارہ
جس کی خاطر میں اب تک جیا ہوں
تیر اصغر نے کھایا جہاں پر
ایک جھولا رکھا ہے وہاں پر
چھد گیا تیر سے حلق اس کا
کیا ستم ہو گیا بے زباں پر
یاد آتی ہے مولا کی غربت
حال اصغر کا جب سوچتا ہوں
ہائے لیلی کا اکبر وہ پیارا
جس کے سینے میں نیزہ اتارا
شاہ کہتے تھے لاشہ اٹھا کر
کس نے میرے محمد کو مارا
کیسے مولا نے ماں کو بتایا
بس یہ محسوس کرتا رہا ہوں
دوں گا مولا کو غازی کا پرسہ
جلتے خیمے اداسی کا پرسہ
اور ستر قدم سے میں دوں گا
بی بی زینب کو بھائی کا پرسہ
کیسے دیکھا تھا بھائی پہ خنجر
سوچتے سوچتے رو دیا ہوں
اے حسن اور ذیشان آؤ
خود کو مولا کی جانب بڑھاؤ
یہ سفر ہر برس ہو مقدر
اس دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ
ہر برس سب سے کہتا رہوں میں
اپنے مولا سے ملنے چلا ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.