Sajjad ne ik pal bhi kahin chain na paya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Ali Raza Karbalai
سجاد نے اک پل بھی کہیں چین نہ پایا
ہر گام پہ زینب کے کھلے سر نے رلایا
بازار میں ہر کوئی تماشائی بنا ہے
یہ آل پیمبر ہیں زمانے کو پتا ہے
پھر بھی نہیں امداد کوئی کرتا خدایا
تپ جاتی ہیں جب دھوپ میں زنجیریں بدن پر
ہو جاتا ہے بے چین سفر میں وہ تڑپ کر
ملتا نہیں عابد کو کہیں دھوپ میں سایہ
بازار میں ملعونوں نے ہے نیزے سے آ کے
سجاد کو تڑپانے کی خواہش میں دکھا کے
ہائے سامنے لیلی کے سر اکبر کا گرایا
سیدانیوں کو ظالموں نے کوڑے جو مارے
بہنے لگے اس ظلم سے جب خون کے دھارے
سر پیٹ کے خوں آنکھوں سے عابد نے بہایا
دربار میں لایا گیا شبیر کا جب سر
پیتے تھے شراب اس گھڑی ہنس ہنس کے ستمگر
سجاد نے یہ قبر تلک غم نہ بھلایا
سر نیزوں پہ مظلوموں کے سجاد نے دیکھے
بے پردا حرم پیاسے تھے رسی سے بندھے تھے
یوں شمر لعیں نے انہیں در در تھا پھرایا
بتلاتے ہیں آنکھوں سے اسد خون بہا کر
سجاد کی آنکھوں میں ہیں سب شام کے منظر
وہ مر گیا تھا جیتے جی جب شام تھا آیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.