Kuch Aise Shaam Walon Ne Sataya Hai Sakina Ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Hassan Abbas Baqari
کچھ ایسے شام والوں نے ستایا ہے سکینہ کو
ردا چھینی ہے اور در در پھرایا ہے سکینہ کو
میرے بابا کے قاتل نے ہی میرے در اتارے ہیں
پکڑ کر مجھ کو بالوں سے طمانچے منہ پہ مارے ہیں
اور اب قیدی بنا کر شام لایا ہے سکینہ کو
بھتیجی پر ہوئے جتنے ستم ان کو بتاتی میں
چچا عباس ہوتے تو یہ غم ان کو بتاتی میں
ہر اک ظالم نے ہنس ہنس کر رلایا ہے سکینہ کو
میں جب بابا کو روتی ہوں تو ظالم اس بہانے سے
سفر میں مجھ کو آ کر مارتے ہیں تازیانے سے
کبھی تو چلتے ناقے سے گرایا ہے سکینہ کو
میری گردن کو ظالم نے رسن سے ایسے باندھا ہے
قدم جب میں اٹھاتی ہوں تو میرا سانس رکتا ہے
بہت گردن میں رسی نے ستایا ہے سکینہ کو
بھلا قیدی کوئی ہوتی ہے بچی چار برسوں کی
سنی فریاد نہ یہ ظالموں نے میرے اشکوں کی
قضا نے قید سے آکر چھڑایا ہے سکینہ کو
میں کر کے یاد سینہ بابا کا دن رات روئی ہوں
میری غربت ہے کہ زندان کی مٹی پہ سوئی ہوں
یتیمی نے کہاں لا کر سلایا ہے سکینہ کو
اسد بی بی کا ہے ہر زخم تازہ ان کے سینے میں
بہن کا حال پوچھو بھائی سے جا کر مدینے میں
لحد میں کیسے عابد نے چھپایا ہے سکینہ کو
کہاں کس نے مجھے مارا میں دادا کو بتاؤں گی
لحد میں آئیں گی دادی تو یہ ان کو دکھاؤں گی
جو ہر اک زخم لوگوں نے لگایا ہے سکینہ کو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.