Pyase gale pe bhai ke chalti rahi chhuri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Kazmi Brothers
پیاسے گلے پہ بھائی کے چلتی رہی چھری
ستر قدم سے پیاسی بہن دیکھتی رہی
روکے ہوئے تھے پیار میں خنجر کی دھار کو
بیٹے سے کتنا پیار تھا ڈلدل سوار کو
رکھے ہوئے تھے شہ کے گلے پر گلا علی
کہتی تھی کیا اسی لئے پیسی تھی چکیاں؟
چادر سے صاف کرتی تھی زخموں کو رو کے ماں
زخمی سر حسین تھا زہرا کی گود تھی
مقتل میں چار سال کی زہرا کو گود میں
اک بار پھر اٹھا لے سکینہ کو گود میں
افسوس قاتلوں سے اجازت نہیں ملی
خنجر سے شہ کی زلفیں ہٹانے لگا لعیں
داڑھی کی سمت ہاتھ بڑھانے لگا لعیں
آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھا ہر اک نبی
کہتا تھا وہ اشاروں میں زینب سے جاؤ گھر
آنکھوں کو بند کر لو کہ کٹ جائے میرا سر
سینے پہ شہ کے زانو تھا رکھے ہوئے شقی
چہرہ وطن کی سمت وہ کرتا تھا بار بار
آنکھوں میں تھا بھرا ہوا صغری کا انتظار
ہائے غریب زہرا کی آنکھیں کھلی ہوئی
لاشہ فرات پر کبھی اٹھا کبھی گرا
کرب و بلا میں حشر تکلم بپا ہوا
عباس تم کہاں ہو صدا جب یہ شہ نے دی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.