Sajjad Bimari Ka Taboot Yeh Utha Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Shahbaz Haideri
سجاد بیماری کا، تابوت یہ اٹھا ہے
غم چادر زینب میں، بڑا خون یہ رویا ہے
جس مقتل میں بے گور و کفن، ہائے لاش پڑی تھی بابا کی
اس مقتل سے جانے، یہ کیسے گزرا ہے
کٹتا ہے جگر ہائے عابد کا، ملا زہر مدینے میں ان کو
تربت میں سکینہ کی، اک محشر برپا ہے
عابد کے بدن پر نیلے نشاں، اور زخم گواہی دیتے ہیں
زنجیر سے ظالموں نے، مظلوم کو باندھا ہے
خون اتنا بہتا ہے ایڑیوں تک، کہ سرخ زمیں ہو جاتی ہے
سجاد کو شامیوں نے، ہائے کتنا مارا ہے
ہنستے تھے لعیں اور مارتے تھے، جب رو کر عابد کہتے تھے
نہ مارو اسے لوگو، معصوم سکینہ ہے
دروں سے کبھی نیزوں سے کبھی، پتھروں سے کبھی، کبھی ٹھوکروں سے
شبیر کا ہر بدلہ، عابد نے چکایا ہے
زخمی تھا بدن رستہ تھا کٹھن، اور سارا سفر تھا کانٹوں پر
نہ جانے کیا کیسے، سجاد نے سجدہ ہے
وہ مجلس تھی شہ کے غم میں، جسے سن کر بیبیاں روتی تھیں
دربار میں عابد نے، دیا رو کے جو خطبہ ہے
بابا کے چچا کے بھائیوں کے، غم نے سجاد کو مار دیا
سجاد یوں چلتے ہیں، جیسے کوئی لاشہ ہے
رویا ہے لہو چالیس برس، اب تربت میں بھی روتا ہے
سجاد کا ہر اک زخم، تربت میں بھی تازہ ہے
بابا کے جو سینے پہ سوتی تھی، زندان میں قبر بنی اس کی
کیسے لاشہ سکینہ کا، عابد نے اٹھایا ہے
وقت آخر وہ عابد کے، چہرے پہ لکھا باقر نے پڑھا
ہر ظلم جو عابد نے، بازار میں دیکھا ہے
سینہ اکبر کا ہے کاٹا گیا، جس برچھی سے شہباز و اسد
اسی برچھی نے ہائے کاٹا، عابد کا بھی سینہ ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.