Baba mere seene se sina kheench rahe hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
شبیہ امام زماں کھینچتے ہیں
تصور میں تصویر جاں کھینچتے ہیں
کہا رو کے اکبر نے اے درد تھم جا
کہ سینے سے بابا سناں کھینچتے ہیں
اکبر نے کہا رو کر اے درد ذرا تھم جا بابا میرے سینے سے سناں کھینچ رہے ہیں
اے بہتے لہو رک جا ہے واسطہ صغری کا
بابا میرے سینے سے سناں کھینچ رہے ہیں
یثرب کی طرف آنکھیں ہر دم میری رہتی ہیں
اب وقت بہت کم ہے سانسیں بھی الجھتی ہیں
قاصد میری صغری کے جلدی سے ذرا آ جا
پٹی میرے بابا نے آنکھوں پہ نہیں باندھی
دی ہے کھلے ہاتھوں سے رن میں میری قربانی
اے دادا خلیل آؤ ہے وقت قیامت کا
دیکھا نہیں جائے گا آنکھوں سے کبھی میری
تڑپوں گا اگر میں تو تکلیف انہیں ہو گی
الفت کا تقاضہ ہے لرزے نہ بدن میرا
اکبر کی گزارش ہے للہ نہ رد کرنا
جب آپ کا شیوہ ہے دنیا کی مدد کرنا
بابا کی مدد کرنے آ جائیے اے دادا
مرنے کا نہیں ہے غم، غم ہے تو بس اتنا ہے
دروازے پہ مدت سے بیٹھی ہوئی صغری ہے
سن کر یہ خبر شاید مر جائے گی وہ دکھیا
ارمان جو دل میں ہے دل میں ہی نہ دفنا دے
ایسا نہ ہو زینب کو جا کر کوئی بتلا دے
پیاری پھپھی اماں سے برداشت نہ یہ ہو گا
کہتا تھا تکلم وہ ہمت جو میری ہوتی
خود اپنے ہی ہاتھوں سے میں کھینچتا یہ برچھی
تکلیف نہیں اپنی ہے درد مجھے اس کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.