Hasnain Ke Baba Par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Joan Rizvi
حسنین کے بابا پر کیا وقت یہ آیا ہے
جاری ہے لہو سر سے تر خون مصلی ہے
دیکھا ہی نہیں صابر دنیا نے علی جیسا
پھر اس کو رلاتا ہے کیوں زخم یہ ضربت کا
کیا یاد میں حیدر کی پہلوئے شکستہ ہے
تھی سامنے زوجہ کے گردن میں بندھی رسی
اب سامنے بیٹی کے زخمی ہے تیرا سر بھی
وہ شہر مدینہ تھا افسوس یہ کوفہ ہے
تاریخ نے اک یہ بھی منظر ہے عجب دیکھا
قاتل کو بھی وہ جس نے رہنے نہ دیا پیاسا
کربل میں اسی کا گھر سہ روز کا پیاسا ہے
بیٹوں سے جو کہتا تھا تم صبر نہیں کھونا
وہ باپ جو کہتا تھا شبیر نہیں رونا
جب بیٹیاں آئیں تو وہ باپ بھی رویا ہے
بیٹوں کی طرف دیکھا اور کہنے لگے حیدر
یہ حال جو دیکھا تو مر جائے گی رو رو کر
زینب کی نگاہوں سے یہ زخم چھپانا ہے
ملجم کے پسر تو نے کیسا یہ ستم ڈھایا
تو کیسا مسلماں ہے اتنا بھی نہیں سوچا
چہرہ یہ خدا کا ہے جو خون میں ڈوبا ہے
کوفے کے یتیموں کی کرتا تھا کفالت جو
اب چھوڑ کے جاتا ہے وہ اپنے ہی بچوں کو
اس بات نے زہرا کو تربت میں رلایا ہے
مولا کی شہادت ہم ذیشان منائیں گے
اے جون زمانے کو یہ بات بتائیں گے
جو فرض ہمارا تھا وہ وہ ہم نے نبھایا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.